Untitled-1 copy

اردو جاسوسسی ادب میں ایک ہی مصنف ابن صفی ، اگاتھا کرسٹی کا خراج تحسین

لاہور : انگریزی کی مشہور ناول نگار اگاتھا کرسٹی نے ابن صفی کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا تھا میں اردو تو نہیں جانتی مگر مجھے معلوم ہے کہ وہاں اردو جاسوسی ادب میں صرف ایک اوریجنل مصنف ہیں ان کا نام ابن صفی ہے وہ واقعی لکھنا جانتے ہیں۔ اسرار رموز سے پوری طرح سے واقف ہیں۔اوسلو یونیورسٹی ناروے کے پروفیسر فین تھیس کے مطابق ابن صفی کے ناولوں میں دو چیزیں بہت اہم ہیں جو اگاتھا کرسٹی کے ناولوں میں موجود نہیں ہیں ان کے ناولوں کی زبان رواں ہے اور انھوں نے مزاح اور سسپنس کو یکجا کر دیا ہے۔ابن صفی کے تحریر کردہ ناولوں کی کئی جہتیں ہیں بحیثیت نثر نگار ،جاسوسی ناول نگار، شاعر ، مزاح نگاران پر کئی حوالوں سے تحقیقی کام کی گنجائش باقی ہے۔ وفیسر مجاور حسین رضوی کے مطابق ابن صفی کے ناولوں میں تجسس اور پر اسرار واقعات ،طنز کی شگفتگی اور مزاح کی چاشنی ایک سحر کارانہ کیفیت پیدا کر دیتی ہے کسی بھی زبان کے جاسوسی ناول پڑھیے یہ انداز تحریر نہیں ملے گا۔اس پر مستزاد یہ کہ ایک باوزن ،با وقار دلکش زبان ،واقعات میں نصیحت کا شائبہ تک نہیں ہے نہ جانے کتنے لوگوں نے ان کے ناولوں کے ذریعے اردو سیکھی ہے اور اردو پڑھنے کا ذوق حاصل کیا ہے۔ جاسوسی ناول نگاروں میں ابن صفی کا نام نمایاں مقام رکھتا ہے. انھوں نے 1952 سے جاسوسی ناول لکھنا شروع کیے اور 1980 میں اپنے انتقال تک تقریبا 250جاسوسی ناول تصنیف کیے۔ابن صفی کا پہلا جاسوسی ناول 1953ئ میں ٴٴدلیر مجرمٴٴ کے نام سے شائع ہوا۔اس ناول میں پہلی دفعہ سارجنٹ حمید اور انسپکٹر فریدی کے کردار روشناس کروائے گئے۔ایک ناول ٴٴ پہاڑوں کی ملکہ ٴٴ رائیڈر میگرڈ ٴٴ کے ناول ٴٴکنگ سالون مانے ئرٴٴ سے مستعار لیا گیا ہے۔ابن صفی کے ناولوں کی فروخت اردو اور ہندی میں دیگر ناولوں کے مقابلے میں زیادہ تھی۔پر۔ہندی میں ان کے ناولوں کا ترجمہ شائع ہوا کرتا تھا۔ابن صفی کے ناولوں کی مقبولیت ہندی زبان میں بھی اردو جیسی ہی تھی البتہ ہندی میں ان کے کرداروں کے نام تبدیل کردیے گئے۔ڈاکٹر اعجاز حسین نے ٴٴاردو ادب آزادی کے بعدٴٴاور ڈاکٹر علی حیدر نے ٴٴاردو ناول سمت و رفتارٴٴ میں ابن صفی کا ذکر کیا ہے۔ابن صفی کے حوالے سے کہا جاتا ہے کہ انھوں ے تھکے ہوئے ذہنوں کو صحت مند تفریح مہیا کرنے کی کوشش کی انھوں نے اپنے ناولوں کو دو سیریز میں پیش کیا فریدی سیریز اورعمران سیریز۔ابن صفی نے اپنی ادبی زندگی کا آغاز شاعری سے کیا۔ اسرار ناروی کے نام سے مشہور تھے۔نوح ناروی ابن صفی کے ماموں تھے اور وہ ان سے اصلاح لیا کرتے تھے بعد میں ہائی اسکول میں اپنے استاد مولانا محمد متین شمس سے رجوع کیا۔انھوں نے اپنی نظموں کے لیے ایسے موضوعات کا انتخاب کیا جن پر کسی اور نے قلم نہیں اٹھایا۔للہ نہ روکو جانے دو، مرگھٹ کا پیپل، بانسری کی آواز ، سنگتراش نے کہا، خوف کا میخانہ وغیرہ ان کی نظموں کے موضوعات ہیں۔
1948ئ میں عباس حسینی کی تجویز سے ایک ادبی رسالہ ٴٴنکہت ٴٴ جاری ہواجس میں ابن صفی ٴٴطغرل خانٴٴ ، ٴٴعقرب بہارستانیٴٴاور ٴٴسنکی سولجرٴٴ کے نام سے طنزیہ اور فکاہیہ کالم لکھا کرتے تھے۔شمس الرحمان فاروقی نے ابن صفی کے چار ناولوں کا انگریزی میں ترجمہ کیا ہے ان کا کہنا ہے کہ جب یہ کام میرے سپرد ہوا تو مجھے ایسا محسوس ہوا کہ ان ناولوں کا انگریزی میں ترجمہ ممکن نہیں۔کیوں کہ یہ ناول مکمل طور پر مقامی رنگ میں رنگے ہوئے تھے ان ناولوں میں اردو کے محاورے اور لطیفے ایسے ہیں جو انگریزی پڑھنے والوں کے شاید ہی سمجھ میں آئیں۔انھوں نے انگریزی ترجمے میں کوئی چیز تبدیل نہیں کی۔یہ چار ناول انگریزی میں ٴٴڈیڈ سیریز ٴٴ کے نام سے منظر عام پر آئے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *