t copy

پاکستان اور بھارت میں یکسان مقبول قتیل شفائی کو دنیا چھوڑے سولہ سال بیت گئے

لاہور : نامور شاعر قتیل شفائی کا اصل نام اورنگزیب خان تھا، وہ 24 دسمبر 1919ئ کو صوبہ خیبر پختونخواہ ہری پور ہزارہ میں پیدا ہوئے۔ قتیل شفائی کا انتقال 11 جولائی 2001ئ کو 82 برس کی عمر میں ہوا تھا۔قتیل شفائی نے صرف 13 برس کی عمر میں شعر کہنا شروع کردیئے تھے، ان کا پہلا مجموعہ ہریالی 1942 میں شائع ہوا۔ انہوں نے بہترین ادبی شاعری کے ساتھ ساتھ نغمہ نگاری کو بھی ایک نئی جہت دی۔ فلمی نغمہ نگاری میں بھی انہوں نے ایک معتبر مقام حاصل کیا۔ اگرچہ فلموں کے لیے گیت نگاری قتیل شفائی کی نمایاں وجہِ شہرت بنی لیکن خود انہیں ہمیشہ اس بات پر اصرار رہا کہ شعر و ادب ہی اُن کا خاص میدان ہیں اور فلمی گیت نگاری محض ایک ذریعہ روزگار ہے، زیادہ سے زیادہ یہ کہ وہ فلموں میں معیاری شاعری متعارف کروانے کا چیلنج لے کر اس میدان میں آئے۔ ان کا کلام پاکستان اور بھارت دونوں ملکوں میں یکساں طور پر مقبول ہے۔ عمر کے آخری برسوں میں کئی بھارتی فلموں کے لیے بھی گیت لکھے، جو بہت مقبول ہوئے، قتیل شفائی نے پاکستان کی پہلی فلم تیری یاد سے نغمہ نگاری کا آغاز کیا۔ اڑھائی ہزار سے زائد نغمے لکھے، انہیں نیشنل فلم ایوارڈ کے علاوہ دو طلائی تمغے اور بیس ایوارڈ بھی دیئے گئے۔ انہیں 94ئ میں تمغہ حسن کارکردگی دیا گیا اس کے علاوہ آدم جی ایوارڈ، امیر خسرو ایوارڈ، نقوش ایوارڈ نیز انڈیا کی مگھید یونیورسٹی کے ایک پروفیسر نے قتیل اور ان کے ادبی کارنامے کے عنوان سے ان پر پی ایچ ڈی کی۔ صوبہ مہاراشٹر میں ان کی دو نظمیں شامل نصاب ہیں۔ علاوہ ازیں بہاولپور یونیورسٹی کی دو طالبات نے ایم اے کے لئے ان پر مقالہ تحریر کیا۔ شہنشاہ غزل مہدی حسن اور بھارت کے غزل گائیک جگجیت سنگھ نے جن شعرائ کا کلام زیادہ گایا ان میں قتیل شفائی بھی شامل ہیں۔ ان کے مشہور نغمات اور غزلوں میں زندگی میں تو سبھی پیار کیا کرتے ہیں، اے دل کسی کی یاد میں، یہ وادیاں یہ پربتوں کی شاہزادیاں، یہ محفل جو آج سجی ہے، کیوں ہم سے خفا ہوگئے اے جان تمنا، صدا ہوں اپنے پیار کی جیسے لازوال نغمات شامل ہیں۔ ان کی تصانیف میں ہریالی، آموختہ، گجر، ابابیل، جلترنگ، برگد، روزن، گھنگرو، جھومر، سمندر میں سیڑھی، مطربہ، پھوار، چھتنار، صنم، گفتگو، پرچم، پیراہن، انتخابٟٟمنتخب مجموعہٞ، کلیات رنگ خوشبو روشنی(تین جلدیںٞ شامل ہیں ۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *