Imran-Khan

سپریم کورٹ بچانے کےلئے پوری قوم کو کال دے رہا ہوں.عمران خان

اسلام آباد : تحریک انصاف کے چئیرمین عمران خان نے کہا ہے سپریم کورٹ کو بچانے کےلئے پوری قوم کو کال دے رہا ہوں شبہ ہے کہ مسلم لیگ ن ایک مرتبہ پھر سپریم کورٹ پر حملہ آور ہو گی۔ سپریم کور ٹ نواز شریف سے استعفی لے نام ای سی ایل میں ڈالے ۔ گاڈ فاد سے ملک کی جان چھڑانے کے لئے نا اہلی بھی منظور ہے ان کو معلوم ہو گیا ہے کہ ان کی رپورٹ نااہلی کی جانب بڑھ چکی ہے بڑا فیصلہ جے آئی ٹی نے نہیں بلکہ سپریم کورٹ نے کرنا ہے ۔ انہوں نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا یہ لوگ پہلے سے کہہ رہے ہیں کہ سپریم کورٹ کا فیصلہ نہیں مانیں گے یہ لوگ سپریم کورٹ اور فوج کے پیچھے پڑگئے ہیں۔ لیگی وزرا کہتے ہیں کہ قطری شہزادے کے بیان کے بغیر جے آئی ٹی کا فیصلہ قبول نہیں کرینگے ۔ قطری شہزادہ تلور کا شکا رکرنے پاکستان آسکتا ہے تو کیا بیان دینے کےلئے پاکستان نہیں آ سکتا میرا سپریم کورٹ سے مطالبہ ہے کہ سپریم کورٹ نواز شریف کانام ای سی ایل میں ڈالا جائے انہوں نے کہا ہم عدلیہ کو دبا نے کی پالیسی نہیں چلنے دینگے ۔ یہ پاکستان کے مستقبل کی جنگ ہے ۔ قوم تیار رہے ۔ پاک فوج اور سپریم کورٹ کے علاوہ تمام ادارے ان کے کنٹرول میں ہیں۔ نواز شریف جو کچھ کر رہے ہیں اس سے ملک کو نقصان ہو رہا ہے ۔ آج سب کو اندازہ ہو جائیگا کہ یہ لوگ کیا کرنا چاہتے ہیں۔ ہمیں سپریم کورٹ کو ہر حال میں بچانا ہے ۔ سلم لیگ ن تین سال سے عوام کو بے وقوف بنا رہی ہے ۔ ان کو جیل میں اس لئے بھی جانا چاہئے کہ یہ پاکستانی عوام کو بے وقوف سمجھتے ہیں۔ منی لانڈرنگ پر ان کو جیل جانا چاہئے ۔ عمران خان نے کہا۔ نواز شریف ملک کے لئے سیکورٹی رسک ہے ۔ سپریم کورٹ کے جج نے نوازشریف کا نام گاڈ فادر بلکل درست رکھا ہے ۔ جے آئی ٹی سے باہر نکلتے ہیں اور پوچھتے ہیں کہ ہمارا قصور کیا ہے ۔ پہلے جنگ میں آرٹیکل چھپتا ہے پھر مسلم لیگ ن کے وزرا اس پر تبصرہ کرتے ہیں۔ مجھ پر اور جمائما پر یہودی لابی کے الزامات لگائے گئے ۔ مجھے دہشت گرد بنایا گیا مافیا ایسے کام کرتا ہے ۔ چیف جسٹس سپریم کورٹ اور آرمی چیف کو تعیناتی پر مبارکبادیں بعد میں مبارکباد یں دینے والے ہی مخالف ہوگئے۔۔ مریم نواز آف شور کمپنیوں کی مالک ہیں۔مریم نواز کا پیش ہونا اچھا نہیں لگا۔ وہ لندن میں فلیٹس کی اصل مالک ہے ۔ اگر یہ سازش ہے تو آئی سی آئی جے کی عدالت سے پوچھیں۔ آئی سی آئی جے کی عدالت میں کیوں جاتے ۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *