Selfless-and-merciful-was-a-man-known-as-Edhi copy

لوگوں کو مسیحائی دینے والے عبدالستار ایدھی کو کوچ کئے ایک برس بیت گیا

لاہور: سماجی خدمت میں مشعل راہ کا کردار ادا کرنیوالے عبدالستار ایدھی کو جہاں فانی سے کوچ کئے ایک برس بیت گیا ان کا انسانی خدمت کا جاری مشن روز با روزبروزدرخشندگی کی جانب گامزن ہے ۔ شوقیہ ایمبولینس چلانے والے نے ایسی سروس مہیا کر دی کہ لوگوں کو مسیحائی مل گئی اس مشن کی تقلید میں بہت سے لوگ ان کے کارواں میں شامل ہیں اور شامل ہو رہے ہیں ۔ ان کا انسانیت کی خدمت کا کام ان کے لئے ہمیشہ کےلئے زندگی بن گیا ہے ۔ عبدالستار ایدھی 1928ئ کو بھارت کے شہر گجرات میں بانٹوا نامی گائوں میں پیدا ہوئے۔ والدین کی تربیت کے باعث بچپن سے ہی سماجی کاموں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے تھے۔قائد اعظم محمد علی جناح ایک مرتبہ بانٹوا کے مسلمانوں سے خطاب کیلئے آئے جہاں عبدالستار ایدھی ان سے ملے وہ بتا تے ہیں کہ ہم نے قائد اعظم کی تقریر کو بڑے جوش و خروش سے سنا اور ہم سب نے ان کی تقریر کے دوران فلک شگاف نعرے لگائے اور انہیں پارٹی فنڈز کے لئے جمع کیے گئے 35 ہزار روپے پیش کیے۔ ان کے خاندان نے تقسیم ہند کے بعد 4 ستمبر 1947ئ کو ہجرت کی بائیس سال کی عمر میں عبدالستار ایدھی والدین کے ہمراہ پاکستان آئے ۔ ملیر میں رہنے کے بعد ان کے والد نے جوڑیا بازار کے ساتھ چھاپہ گلی میں ایک چھوٹا سا گھر کرائے پر لے لیا۔ میٹھادر میں ایک 13 سو روپے کا ٹکڑا لیا جو ابھی ان کی اہلیہ بلقیس ایدھی کے نام پر ہے جبکہ ان کے نام صرف چھاپہ گلی کا ایک مکان ہے جس سے ان کے والدین کا جنازہ اٹھایا گیا تھا۔ بچپن سے ایمبولینس چلانا ان کا شوق تھا، انہوں نے ایک پرانی ہملٹن ایمبولینس خرید لی اور25 سال تک اس کے ذریعے انسانیت کی خدمت کرتے رہے۔ ایک چار پائی پر سوتے تھے۔ لیکن، کوئی ڈر اور خوف نہ تھا۔ یہ سب خدمات دیکھ کر لوگوں کی ہمدردی اور دلچسپی مزید بڑھی اور ان کی طرف مائل ہونے لگے۔ ایمبولیس کے ذریعے مریضوں کو گھر سے اسپتال اور اسپتال سے گھر منتقل کرتے تھے۔ ریڈکراس اور سینٹ جون بھی گئے اور ان کے لائیف ممبر بھی بنے۔ اس دوران، ادارے کو پیسے مل بھی رہے تھے اور مستحقین میں ان کی تقسیم بھی جاری تھی۔ قربانی پر لوگ جانوروں کی کھالیں بھی جمع کروا رہے تھے۔35، 35 ہزار کھالیں جمع ہو گئیں۔رمضان المبارک میں فطرہ بھی دیا جا رہا تھا۔ لہذا، انسانیت کی خدمت دن بدن بڑھتی گئی۔ایک مرتبہ ذوالفقار علی بھٹو کے دور حکومت میں کراچی کے علاقے لیاری میں ٴبسم اللہ بلڈنگٴ منہدم ہوئی۔ وہاں ایدھی کے رضا کار امدادی کارروائیوں میں مصروف تھے کہ ذوالفقار علی بھٹو وہاں پہنچ گئے۔ رضاکاروں کو کام کرتا دیکھ کر، انہیں بلایا اور کہنے لگے کہ اگر میرے پاس ایسے رضاکار ہوتے، تو انقلاب برپا کر دیتا۔ ڈاکو تک بھی عبدالستار ایدھی کی خدمات سے متاثر تھے ۔ایک مرتبہ عبدالستار ایدھی بلوچستان گئے تو راستے میں ڈاکو آگئے۔ لیکن، جب انہوں نے پہچانا تو فوراً ناصرف معافی مانگ لی، بلکہ امدادی رقم کے بھی ڈھیر لگادیئے اور خود انہیں بحفاظت کوئٹہ پریس کلب پہنچایا۔عبدالستار ابتدائی تعلیم کے دوران ہی وہ گھر سے ملنے والے دو پیسوں میں سے ایک پیسہ ضرورت مندوں پر خرچ کرتے تھے تاہم والدہ کی بیماری عبدالستار ایدھی کی زندگی کا اہم موڑ ثابت ہوئی۔عبدالستار ایدھی نے صرف 5 ہزار روپے سے اپنے پہلے فلاحی مرکز ایدھی فاؤنڈیشن کی بنیاد ڈالی، 1973 میں جب شہر میں ایک پرانی رہائشی عمارت زمین بوس ہوئی تو ایدھی ایمبولینسیں اور ان کے رضا کارمدد کےلئے سب سے پہلے پہنچے، اس دن کے بعد سے آج تک ملک بھر میں کوئی بھی حادثہ ہوایدھی ایمبولینسیں کام آتی ہیں بلکہ لاوارث لاشوں کو دفنانے کا کام بھی سرانجام دیاجاتا ہے۔ایدھی فاؤنڈیشن کی مختلف ممالک میں بھِی شاخیں ہیں، اسی لئے عبدالستار ایدھی کی فلاحی خدمات کو ملکی اور عالمی سطح پربھرپور پذیرائی ملی مختلف ممالک نے ان کی خدمات کے اعتراف میں انہیں ایوارڈز سے نوازا حکومت پاکستان نے انہیں نشانِ امتیاز دیا۔ عبدالستار ایدھی نے اپنی سوانح عمری بھی تحریر کی جو کتابی شکل میں موجود ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *