Imran-Khan-55

نواز شریف کو اڈیا لہ جیل میں دیکھ رہا ہوں ۔ عمران خان

نتھیا گلی: تحریک انصاف کے چئیرمین عمر ان خان نے کہا ہے میںشریف خاندان کے خواب وخیال میں بھی نہ تھا کہ وہ پکڑے جائینگے۔ شہباز شریف کے حقائق قوم کے سامنے لاوں گا۔مجھے دس ارب روپے کی آفر کی گئی اور پھر کیس کر دیا گیا ۔ میرے پاس دس ارب روپے نہیں ہیں۔ شہباز سیسیلین مافیا کا سوٹ پہن کر پھر رہے ہیں۔ شہبا ز شریف کیس جیت گئے تو دس ارب روپے ان سے ہی مانگوں گا۔ میں حمزہ شہباز سے قرضہ لے لونگا ۔میں ان پر الزام لگاوں تو پوری کتا ب بن جائے ۔ شہباز شریف نے پوری زندگی کرپشن کی اور رشوت دی ہے شہباز شریف نے کرپشن کے ریکارڈ توڑے۔ شہباز شریف تین غیر قانونی شوگرز ملز لگاتے پکڑے گئے انہوں نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ۔ یہ ڈاکو کبھی بھی سسٹم کو مضبوط نہیں ہونے دینگے ۔ بہت دیر سے انتظار کر رہا تھا بہت زبردست میچ ہونیوالا ہے ۔ قطری شہزاد شکار کرنے کرنے آجاتا ہے۔ اگر مریم نواز لیکن شریف خاندان کو بچانے نہیں آتا۔ مفاد پرست لوگوں نے سسٹم کو تباہ کر دیا ہے ۔ کلین گورننس کرنیوالے لوگ ہم سے آگے نکل گئے ۔ ہم سیاست نہیں مافیا کے خلاف جنگ کر رہے ہیں۔ یہ فیصلہ کن جنگ ہے ۔کچھ سٹیس کو کے خلاف اور کچھ ساتھ کھڑے ہیں۔ کچھ لوگ پرانے سسٹم کو بچا رہے ہیں۔ ایک طرف سٹیس کو اور دوسری جانب عوام ہے ۔ہم ایسا معاشرہ چاہتے ہیں جہاں ادارے مضبوط ہوں۔ ملک میں کرپشن کینسر کی طرح سے پھیل گئی ہے ۔ کرپشن کے کینسر کو درست کرنا ہوگا۔ کرپٹ مافیا کو بچانے کےلئے پروپیگنڈا کیا جا رہا ہے ۔ نواز شریف کو قصور یہ ہے کہ اس نے بچوں کے نام پر پیسے چوری کئے ۔ان لوگوں نے پیسے چوری کرکے منی لانڈرنگ کی ۔ پاکستان میں دس لاکھ روپے کی منی لانڈرنگ ہر سال ہوتی ہے ۔ اسحاق ڈارنے کہا تھا سعید احمد کے ذریعے منی لانڈرنگ ہوتی تھی ۔ وزیراعظثم ایسا کرینگے تو ملک کا کیا حال ہوگا۔ انہوں نے کہا گاڈ فادر کے خلاف جو بھی جدوجہد کررہا ہے اس کو خوش آمدید کہیں گے ۔ وقت آگیا ہے کہ عوام مافیا کے خلاف اٹھ کھڑے ہوں۔ سپریم کورٹ نے بھی کہا انہوں نے سارے ادارے تباہ کر دئیے ۔ کیا ملک کو لوٹنے والے منی لانڈرنگ کو روکیں گے ۔ تحریک انصاف میں جو بھی شامل ہو رہا ہے وہ تبدیلی چاہتا ہے ۔ شریف برادران نے ملکی قوانین توڑے ہیں۔ شریف خاندان کہتا ہے کہ ان کا قصور کیا ہے ۔ شکیل الرحمن جیسے لوگ انہیں بچانے کی کوشش کر رہے ہیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *