Daily_News_9712139368058

موسم گرما میں ہیٹ ویوز کی شدت میں سال بہ سال اضافہ

لاہور: موسم گرما میں ہیٹ ویوز کی شدت میں اضافہ سال بہ سال بڑھنے لگا۔جریدے نیچر کلائمیٹ چینج کی تحقیق کے مطابق دنیا بھر میں 30 فیصد علاقوں میں زندگی کے لیے جان لیوا بننے والی ہیٹ ویوز دیکھنے میں آرہی ہیں جن کا دورانیہ سال بھر میں کم از کم 30 دن تک ہوتا ہے۔ تاہم زہریلی گیسوں کے اخراج میں اضافہ ہوتا گیا تو 2100 تک یہ دورانیہ 74 فیصد تک بڑھ جائے گا۔ ہوائی یونیورسٹی کی تحقیق کے دوران 1980 سے 2014 کے درمیان شائع ہونے والے تحقیقی مضامین کا جائزہ لیا گیا تو پتہ چلاکہ جان لیوا ہیٹ ویوز سے ہلاکتوں یا امراض کے 900 سے زائد کیسز کو ان میں شامل کیا گیا ہے۔مجموعی طور پر 36 ممالک میں ہیٹ ویوز کے لگ بھگ 800 جان لیوا کیسز سامنے آئے جن میں قابل کر 2003 میں پیرس میں اس کے باعث 5 ہزار جبکہ 2010 میں ماسکو میں 10 ہزار ہلاکتیں تھیں۔محققین نے ان واقعات کا تجزہ کرکے درجہ حرارت اور نمی کی سطح کا تعین کیا جو کہ جان لیوا ثابت وسکتے ہیں اور پھر اس معلومات کا اطلاق موسمیاتی ڈیٹا پر کرکے جانا گیا کہ مستقبل میں کس حد تک یہ خطرناک ثابت ہوگا۔تحقیق کے مطابق اگر مستقبل میں زہریلی گیسوں کا اخراج انتہائی حد تک بھی کم کردیا جائے تو بھی وئی اچھی صورتحال سامنے نہیں آئے گی اور دنیا بھر کی 48 فیصد آبادی کو آنے والی دہائیوں میں ہر سال ایک مہینے تک جان لیوا ہیٹ ویوز کا سامنا ہوگا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *