a_1339588821_1339588829_460x460

گلوں میں رنگ بھرے سے مہدی حسن کو پہچان ملی

لاہور : گلوکار مہدی حسن 18 جولائی 1927ئ میں بھارتی ریاست راجستھان کے ایک گاؤں لْونا میں پیدا ہوئے۔ اْن کے والد اور چچا دْھرپد گائیکی کے ماہر تھے اور مہدی حسن کی ابتدائی تربیت گھر ہی میں ہوئی۔ خود اْن کے بقول وہ کلاونت گھرانے کی سولھویں پیڑھی سے تعلق رکھتے تھے۔1947ئ میں مہدی حسن اہل خانہ کے ساتھ ہجرت کر کے پاکستان چلے گئے اور محنت مزدوری کے طور پر سائیکلیں مرمت کرنے کا کام شروع کیا۔ اس کے بعد انہوں نے ڈیزل انجن مکینک کے کام میں مہارت حاصل کی اور پہلے موٹر اور اس کے بعد ٹریکٹر کے مکینک بن گئے۔ اس دوران بھی وہ موسیقی کے خیال سے غافل نہیں رہے اور ان حالات میں بھی ریاض جاری رکھا۔1950 میں اْن کا تعارف ریڈیو پاکستان کے پروڈیوسر سلیم گیلانی سے ہوا۔ موسیقی کانفرنس میں انہیں غزل گانے کا موقع دیا گیا اور مہدی حسن کو جیسے منزل گئی ۔۔ ساٹھ کی دہائی میں ان کی گائی ہوئی فیص احمد فیض کی غزل ٴگلوں میں رنگ بھرےٴ ہر گلی کوچے میں گونجنے لگی۔60 اور 70 کی دہائیوں میں مہدی حسن پاکستان کے معروف ترین فلمی گائیک بن گئے۔ سنتوش کمار، درپن، وحید مراد اور محمد علی سے لے کر ندیم اور شاہد تک ہر ہیرو نے مہدی حسن کے گائے ہوئے گیتوں پر لب ہلائے۔ سنجیدہ حلقوں میں اْن کی حیثیت ایک غزل گائیک کے طور پر مستحکم رہی۔ اسی حیثیت میں انھوں نے برِصغیر کے ملکوں کا کئی بار دورہ بھی کیا۔ نیپال کے شاہ بریندرا اْن کے احترام میں اْٹھ کر کھڑے ہو جاتے تھے۔ انہیں مہدی حسن کی کئی غزلیں زبانی یاد تھیں۔80 کی دہائی میں انہوں نے اپنا بیشتر وقت یورپ اور امریکا کے دوروں میں گزارا۔ ان کے شاگردوں میں سب سے پہلے پرویز مہدی نے نام پیدا کیا اور تمام عمر اپنے اْستاد کو خراجِ عقیدت پیش کرتے رہے۔ بعد میں غلام عباس، سلامت علی، آصف جاوید اور طلعت عزیز جیسے ہونہار شاگردوں نے ان کی طرز گائیکی کو زندہ رکھا، ہر مہدی حسن نے 13 جون 2012ئ کو کراچی میں زندگی کی آخری سانس لی، انہیں کراچی میں ہی سپر دخاک کیا گیا ۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *