Untitled-1-copy6 copy

رنگیلے کا کارنامہ ، ماچس کی تیلی سے گانا کمپوز کر دیا

لاہور: لیجنڈ فنکار رنگیلا نے ماچس کی تیلی سے فلم دورنگیلے کا گیت سجنا ں اے محفل اساں تیرے لئے سجائی اے ترتیب دےکر بڑے بڑے فنکاروں کاحیران کر دیا ۔ رنگیلا بیک وقت شو بز کے شعبے کو اپنے آپ میں سموئے ہوئے تھے جس کا ثبوت انہوں اپنی فلموں کے ذریعے دیا جس کا اعتراف نہ صرف ملک بلکہ دنیا بھر میں کیا گیا ۔ جسمانی ساخت اور حرکات کی بنا پر جیسے ہی وہ فلم میں سامنے آتے لوگوں کے چہرے پر بے ساختہ مسکراہٹ آجاتی اور باتوں پر قہقہے گونجتے رہے ۔رنگیلا کا اصل نام محمد سعید خان تھا۔ وہ یکم جنوری 1937ئ کوضلع ننگرہار، افغانستان میں پیدا ہوئے۔ انہیں نوعمری سے ہی جسمانی ورزش کا بہت شوق تھا۔ا یک مرتبہ وہ باڈی بلڈنگ کے مقابلے میں شریک ہوئے تو جیسے ہی وہ لوگوں کے سامنے آئے ان کے باڈی بلڈنگ کے انداز پر لوگوں نے ہنسنا شروع کر دیا۔ذریعہ معاش کی خاطر انہوں نے مصوری سیکھی اور ایک پینٹر کی حیثیت سے نام کمانے کے لئے پہلے پشاور ہجرت کی لیکن یہاں زیادہ کامیابی ہاتھ نہ آتے دیکھ کر بلآ خر لاہور کا رخ کیا جہاں قسمت نے ان سے یاوری کی اور وہ پینٹر کی حیثیت سے فلمی سائن بورڈ تیار کرنے لگے۔فلمی بورڈ بنانے کے ذوق و شوق نے جب جنون کی کیفیت اختیار کی تو رنگیلا نے فلموں میں بطور اداکار کام کرنے کی ٹھانی۔ یہ 1958ئ میںرنگیلا نے بطور اداکار پنجابی فلم “جٹی” سے اداکاری کا آغاز کیا۔ یہ فلم ایم جے رانا نے ڈائریکٹ کی تھی فلم “جٹی” راتو ں رات ہٹ ہوگئی۔اداکار کی حیثیت سے خود کو منوانے کے بعد رنگیلا نے ہدایت کاری کے شعبے میں قدم رکھا اور پہلی فلم “دیا اور طوفان” ڈائریکٹ کی۔ اس فلم نے بھی رنگیلا کی شہرت کو چار چاند لگائے۔ اس کے بعد انہوں نے بطور فلمساز بھی قسمت آزائی کا فیصلہ کیا اور “رنگیلا پروڈکشنز” کے بینر تلے فلمسازی شروع کردی۔ انہوں نے کئی فلمیں پروڈیوس کیں جنہیں بہت پسند کیا گیا۔11 ستمبر 1970ئ کو ان کی فلم “رنگیلا ” ریلیز ہوئی جس میں انہوں نے ٹائٹل رول ادا کیا تھا۔ یکم اکتوبر 1971ئ کوان کی ایک اور کامیاب ترین فلم “دل اور دنیا” ریلیز ہوئی جس میں رنگیلا کے علاوہ حبیب اور آسیہ بھی تھیں۔ان کی فلم انسان اور گدھا نے بھی مقبولیت حاصل کی فلم میںگدھوں سے رنگیلے کا خطاب فلم کی جان تھا۔
ارنگیلا نے دل اور دنیا، میری زندگی ہے نغمہ، رنگیلا، نوکر تے مالک، سونا چاندی، مس کولمبو، باغی قیدی اور فلم تین یکے تین چھکے جیسی کامیاب فلموں کے لئے بطور بہترین اسکرین پلے رائٹر، بہترین کامیڈین، بہترین مصنف اور بہترین ڈائریکٹر کی حیثیت سے انیس سو ستر، اکہتر، بہتر، بیاسی، تراسی، چوراسی، چھیاسی اور انیس سو اکیانوے میں 9مرتبہ نگار ایوارڈ زحاصل کئے جو ان کی خدمات کا اعتراف تھا۔فلم ہیرو، انٹرنیشنل گوریلا، عورت راج، دو تصویریں، کبڑا عاشق، دوستی، دل اور دنیا، رنگیلا، دیا اور طوفان، گہرا داغ، بازار حسن، میڈم باوری، رنگیلے جاسوس اور عبداللہ دی گریٹ، میری محبت تیرے حوالے، صبح کا تارا، گنوار، جہیز، نمک حلال، کاکا جی، راجا رانی، صاحب بہادر، قلی ان کی کامیاب ترین فلمیں ہیں۔رنگیلا کو گردوں، جگر اور پھیپھڑوں کا عارضہ لاحق تھا جس کے باعث24 مئی 2005ئ کو لاہور میں 68 سال کی عمر میں زندگی کی بازی ہار گئے۔ انہوں نے تین شادیاں کی تھیں۔ ان کی آٹھ بیٹیاں اور چھ بیٹے ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *