Muniba

عالمی شہرت یافتہ نعت خواں منیبہ شیخ ہم میں نہیں رہیں

کراچی : عالمی شہرت یافتہ نعت خواں منیبہ شیخ انتقال کرگئیں۔وہ کافی عرصہ سے گردوں کے عارضے میں مبتلا تھیں ۔ تکلیف بڑھنے پر انہیں ہسپتال میں داخل کر وایا گیا تھا لیکن وہ صحت یاب نہ ہو سکین۔منیبہ شیخ کو نعت خوانی میں پرائڈ آف پرفارمنس کا ایوارڈ بھی دیا گیا ۔
منیبہ کبریٰ شیخ کا تعلق پونا ہندوستان کے علمی اور مذہبی گھرانے سے تھا۔ اْن کے نانا محمد اسمٰعیل عزیزی مہاراشٹر کے امیر جماعت اسلامی تھے، والد کا تعلق دہلی سے تھا۔ منیبہ شیخ کی والدہ صغریٰ بیگم کاتعلق درس و تدریس سے تھا اور انہوں نے محمدی گرلز اسکول بھی قائم کیا ۔ علمی وادبی گھرانے سے تعلق رکھنے والی نعت خواں نے فارسی، اسلامی تاریخ، انڈین اسٹڈیز میں ایم۔اے کیا۔ انھوں نے استاد امراؤ بندو خان سے موسیقی کی باقاعدہ تعلیم حاصل کی اور استاد امیر احمد خان کی بھی شاگر د رہیں۔ سب سے پہلے ریڈیوسے جو نعت پڑھی وہ مرحبا سیّدی مکّی مدنی العربی   تھی۔ اْس زمانے میں ریڈیو بہت اہم ذریعہ تھا لہٰذا خبروں کے بعد پروگرامز کا آغاز کیا۔ ایک پروگرام  پلیٹ فارم   کی پانچ سال کمپیئر نگ کی۔ 1979ئ میں حج کا موقع نصیب ہوا۔ حکومت پاکستان نے 14 اگست 1988ئ کو صدارتی تمغہ برائے حسن کارکردگی عطا کیا۔ ٓان کی بیٹی تحریم شیخ نے والدہ کے نقش قدم پر چلتے ہوئے نعت گوئی کا سلسلہ جاری رکھاہے ۔ اس ے علاوہ وہ ٹی وی چینل پر پروگرام بھی پیش کرتی ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *