talat_mahmood_splash

اے میرے دل کہیں اور چل ، طلعت محمود کی گائیکی آج بھی لبوں پر

ممبئی: لیجنڈ گلوکار طلعت محمود 24فروری 1924کو لکھنو میں پیدا ہوئے۔ 9 مئی 1998کو ممبئی میں ان کاانتقال ہوا۔ ان کے گیت آج بھی کانوں میں رس گھول رہے ہیں۔ نئے گلو کار ان کی فن گائیکی سے استفاد کرتے ہیں۔ ۔ طلعت محمو د نے گلوکار رفیع اور لتا سمیت ہر گلو کار کے ساتھ گایا۔طلعت محمود کی فلمی دنیا میں آمد نے انقلاب پیدا کر دیا ۔ منفرد انداز کی گائیکی اور در و کرب میں ڈوبی آواز نے ہر ایک کو دیوانہ کردیا۔جو بھی گایا وہ مقبولیت کے درجے پر فوری پہنچ جاتا ۔ہر نغمہ لوگوں کے لبوں پر سج جاتا ۔ انہوں نے غزل گائیکی کو ایک نئے راہ پر ڈالا ۔ طلعت محمود نے 15 سال کی عمر میں لکھنئو ریڈیو سے فنی کیریئر کا آغاز کیا۔ 1944 میں ان کے ایک غیر فلمی گیت ”تصویر تیری دل میرا بہلا نہ سکے گی نے مقبولیت کے تمام ریکارڈ توڑ ڈالے ۔۔انہوں نے مرزا غالب ، داغ اور جگر کی غزلوں کو نہایت مہارت سے گایا طلعت نے بنگالی، گجراتی، سندھی اور پنجابی سمیت تیرہ زبانوں میں آٹھ سو سے زائد گیت گائے مگر راجندر کے لکھ اور سلیل چوہدری کے موسیقی ترتیب دیئے ہوئے گانے اتنا نہ مجھ سے پیار بڑھانے طلعت محمود کو شہرت کی بلندیوں پر پہنچا دیا۔ اپنی فلمی زندگی میں طلعت محمود نے سب سے زیادہ گانے دلیپ کمار کی فلموں کے لیے گائے جیسے شامِ غم کی قسم یا حسن والوں کو، اور یہ ہوا یہ رات یہ چاندنی ، ا ے میرے دل کہیں اور چل ، ہم درد کے ماروں کا اتنا ہی فسانہ ہے وغیرہ قابل ذکر ہیں۔طلعت محمود نے گلوکاری کے علاوہ پاکستانی اور بھارتی فلموں میں بھی اپنی اداکاری کے جوہر دکھائے، انہیں اپنی بے مثال گائیکی پر فلم فیئر اور پدما بھوشن ایوارڈ سے نوازا گیا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *