images (1)

گرمی کی اندھیر نگری، پہلی بار بجلی کی طلب 20 ہزار میگا واٹ سے بڑھ گئی

لاہور: گرمی نے وقت سے پہلے ہی اندھیر نگری مچا دی جس کے نتیجے میں ملک میں اپریل کے مہینے میں پہلی بار بجلی کی طلب 20 ہزار میگا واٹ سے بڑھ گئی جبکہ شارٹ فال ساڑھے چھ ہزار میگا واٹ تک جا پہنچا ۔لوگ اعلانیہ اور غیر اعلانیہ لوڈ شیڈنگ کے درمیان پھنس کر شٹل کاک بن کر رہ گئے ۔ بجلی جا کر آنا بھول جا تی ہے ایسے میں پانی کی کمیابی بھی سر چڑھ کر بولتی ہے ۔ ملک بھر میں کوئی راستہ ایسا نظر نہیں آئے گا جہاں ہر فرد حسب اسطاعت برتن اٹھائے پانی کے لئے سرگرداں ہے ۔ ہر آنیوالا دن جہاں گرمی بڑھا رہا ہے وہاںلوڈ شیڈنگ کا دورانیہ بھی کنٹرول سے باہر ہو رہا ہے ۔ حیدرآباد، نواب شاہ، سکھر سمیت دیگرشہروں اور دیہی علاقوں میں10 گھنٹوں سےزائد کی لوڈشیڈنگ معمول ہے۔جھنگ، چنیوٹ، گجرات، حافظ آباد اوردیگرشہروں میں گرمی کےساتھ 14،14گھنٹے بجلی کی لوڈشیڈنگ نے شہریوں کو خوار کرکے رکھ دیا ۔ آزادکشمیراور گلگت بلتستان کے شہری بھی لوڈشیڈنگ کےستائےہوئےہیں، 14گھنٹوں سے زائد وقت کے لئے بجلی چلی جا تی ہے ۔ ملتان سمیت جنوبی پنجاب کے ، شہری علاقوں میں چھ اور دیہی علاقوں میں آٹھ گھنٹوں کی اعلانیہ جبکہ 14گھنٹوں تک کی غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ کی جاری ہے۔خیبرپختونخواہ کےشہروں نوشہرہ، رسالپور، جہانگیرہ اور پبی میں 12سے16گھنٹوں تک بجلی کے نہ ہونے سے لوگوں کو ذہنی اذیت کا سامنا ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *