d

جرمنی میں مصنوعی سورج روشن

برلنٟ : جرمن سائنسدانوں نے دنیا کے سب سے بڑے ‘مصنوعی سورج’ کو روشن کردیا اس تجربے کو ‘سین لائٹ’ کا نام دیا گیا اور چار گھنٹوں کے اس تجربے کے لیے اتنی توانائی درکار ہوتی ہے جو ایک گھر پورے سال میں استعمال کرتا ہے۔مگر سائنسدانوں کو توقع ہے کہ مستقبل میں سورج کی قدرتی روشنی کو ہائیڈروجن کے حصول کے لیے کاربن نیوٹرل ذریعے سے استعمال کیا جاسکے گا۔ یہ تجربہ جرمن شہر کولون کے مغرب میں 19 میل دور کیا گیا۔اس مقصد کے لیے 149 فلم پراجیکٹر اسپاٹ لائٹس کو استعمال کرکے زمین پر آنے والی قدرتی سورج کی روشنی سے 10 ہزار گنا تیز روشنی کو پیدا کیا گیا۔جب تمام لیمپس نے روشنی کو ایک سنگل اسپاٹ پر مرکوز کیا تو اس وقت یہ آلات 3500 سینٹی گریڈ درجہ حرارت پیدا کررہے تھے۔محققین کا کہنا تھا کہ اگر آپ اس وقت کمرے میں چلے جائیں جب یہ مصنوعی سورج روشن ہوجاتا ہے تو آپ فوراً ہی جل جائیں گے۔بتایا گیا ہے کہ اس تجربے کا مقصد سورج کی قدرتی روشنی کو ہائیڈروجن ایندھن کی تیاری کے لیے استعمال کرنا ہے۔سولر پاور اسٹیشنز میں شیشوں کو سورج کی روشنی، پانی کی جانب مرکوز کرکے استعمال کیا جاتا ہے جس کے نتیجے میں پانی دھواں بن کر اڑتا ہے جو بجلی پیدا کرنے کے لیے استعمال ہوتا ہے۔اس نئے تجربے میں یہ جاننے کی کوشش کی گئی کہ کیا اس طرح سورج کی روشنی سے پانی کو بخارات بنا کر ہائیڈروجن کو حاصل کیا جاسکتا ہے جسے طیاروں اور گاڑیوں کے ایندھن کے طور پر استعمال کیا جاسکے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *