542045_63790224

جو بچا تھا۔۔۔ نورجہاںکو 19 مرتبہ گانا پڑا

لاہور: موسیقار نثار بزمی اپنے کمپوز کئے ہوئے گیت سے جب تک مطمئن نہ ہوتے گلو کار کو جانے نہ دیتے تھے ۔ گلوکارہ نور جہاں کے بارے میں مشہور تھا کہ وہ گانا گانے کے لئے عین وقت پر پہنچتی تھیں اور ریکارڈنگ کے فورا بعد چلی جاتی تھیں۔ لیکن نثار بزمی کے ساتھ انہوں نے کبھی بھی ایسا نہیں کیا۔ ۔ گلوکارہ نورجہاں کو گانا بچا تھا لٹانے کے لئے آئے ہیں نیس مرتبہ ری ٹیک کرنا پڑا تھا ۔ نورجہاں سے جب پوچھا گیاکہ وہ نثار بزمی کو کیسے وقت دے دیتی ہیں تو انہوں نے واضح کیا کہ نثار بزمی عام موسیقار نہیں ہیں۔ وہ باریکی سے موسیقی کے اسرارو رموز جانتے ہیں ۔وگرنہ جہاں میں وقت نہیں د یتی وہ تو عام موسیقار ہیں۔ موسیقار نثار بزمی بھارت سے پندرہ روز کےلئے پاکستان آئے تھے اور پھر یہیں کے ہو کر رہ گئے ۔ بھارت میں موسیقار نثار بزمی کی اپنی پہچان تھی۔ انہوں نے 1944 میں انہوں نے ممبئی ریڈیو سے نشر ہونے والے ڈرامے ٴ نادر شاہ درانی ٴ کی موسیقی ترتیب دی۔اس کھیل کے سارے گیت سپر ہٹ ہوئے۔ بھارت میں نثار بزمی نے فلموں کی موسیقی دی۔ لتا، آشا بھوسلے، مناڈے اور محمد رفیع سے گانے گوائے۔ رفیع کی آواز میں فلم ٴ کھوجٴ کا گانا “چاند کا دل ٹوٹ گیا، رونے لگے ہیں ستارے۔ یہ گانا آج بھی مقبول ہے ۔ انہوں نے پہلی بار آنند بخشی کو بطور نغمہ نگار فلم ٴبھولا آدمیٴ میں متعارف کروایااور کلیان جی آنند جی کی جوڑی کو سازندوں کی جگہ سے اٹھا کر موسیقاروں کی صف میں شامل کرانے میں اہم کردار ادا کیا۔1962۔بمبئی میں وہ ایک نام ور موسیقار شمار ہوتے تھے اور لکشمی کانت پیارے لال جیسے میوزیشن اْن کی معاونت میں کام کر چْکے تھے۔ میں نثار بزمی پاکستان آئے۔فلمی موسیقی میں یہ زمانہ تھا خورشید انور اور رشید عطرے کا۔ اسی زمانے میں بابا چشتی، فیروز نظامی، رابن گھوش، ماسٹر عنایت، ماسٹر عبداللہ، سہیل رعنا اور حسن لطیف بھی اپنے فن کا جوہر دکھا رہے تھے۔ زیادہ کمرشل سطح پر یہ زمانہ منظور اشرف، دیبو، ناشاد، اے حمید ٟموسیقارٞ، سلیم اقبال، تصدق، لال محمد اقبال، رحمان ورما، بخشی وزیر، خلیل احمد اور وزیر افضل کا زمانہ تھا۔انہوں اپنا مقام بنانے میں 15 برس تک جدوجہد کرنا پڑی انہیں فلم ٴہیڈ کانسٹیبلٴٰ ملی۔ تاہم مزید ایک برس کی شبانہ روز محنت کے بعد نثار بزمی کو منزل کا سراغ مل گیا جب فضل احمد کریم فضلی نے اپنی معروف فلم ٴ ایسا بھی ہوتا ہےٴ کےلئے انھیں موسیقار نامزد کردیا۔اس فلم کے بعد پاکستانی فلم انڈسٹری کے دروازے نثار بزمی پر کھْل گئے۔ 1966 میں انھوں نے ٴلاکھوں میں ایکٴٰ کی موسیقی مرتب کی۔ تو ان کے سامنے فلموں کی لائنیں لگ گئیں۔ ان کی فلموںمیں ہیڈ کانسٹیبل، عادل، وقت کی پکار، حاتم طائی، آگ، لاکھوں میں ایک، صاعقہ،انجمن، تہذیب، محبت،آسرا، عندلیب، ناز، شمع اور پروانہ، ناگ منی، میری زندگی ہے نغمہ، آس، تلاش، ہم ایک ہیں، نغمات کی رات اور سونیا کے نام سرفہرست ہیں۔ نثار بزمی نے مجموعی طور پر 69 فلموں کی موسیقی ترتیب تھی جس میں ان کے کمپوز کئے گئے نغمات کی مجموعی تعداد 495 تھی۔ اداکار ندیم کو سب سے پہلے بطور گلوکار انہوں نے ہی اپنی ایک فلم میں متعارف کروایا تھا مگر یہ فلم نمائش پذیر نہیں ہوسکی تھی۔ انہوں نے طاہرہ سید، نیرہ نور، عالم گیر اور حمیرا چنا کو بھی پہلی مرتبہ اپنی ہی فلموں میں متعارف کروایا تھا۔ ان کی آخری فلم ویری گڈ دنیا ویری بیڈ لوگ تھی جو 2000ئ میں نمائش پذیر ہوئی تھی۔نثار بزمی کو حکومت پاکستان نے صدارتی تمغہ برائے حسن سے نوازاتھا ۔ وہ ایک خوش گو شاعر بھی تھے اور ان کا شعری مجموعہ پھر ساز صدا خاموش ہوا بھی شائع ہوچکا ہے۔ نثار بزمی کا انتقال 23 مارچ 2007ئ کو کراچی میں ہوا۔ وہ شمالی کراچی میں قبرستان محمد شاہ میں سپر د خاک ہو ئے ۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *