25804-manto-1421484460-330-640x480-copy

چھوٹی عمر میں بڑے افسانے لکھنے والے منٹو لوح جہاں پر حرف مکرر نہیں

لاہورٟ : سعادت حسن منٹو 11 مئی 1912 ئ کو لدھیانہ کے قصبہ سمر ا لہ میں پیدا ہوئے اور 18جنوری 1955 ئ میں انتقال کر گئے انہوں نے صرف 43 سال کی عمر پائی،اور اس مختصرسی زندگی میں منٹو نے جو شہرت پائی ، وہ بہت کم فنکاروں کے حصہ میں آئی ہے ۔ سعادت حسن منٹو اپنےگھر میں ایک سہما ہوا بچہ سمجھے جاتے تھے۔ سوتیلے بہن بھائیوں کی موجودگی اور والد کی سختی کی وجہ سے وہ اپنا آپ ظاہر نہ کر سکتے تھے البتہ ان کی والدہ ان کی طرفداری کرتی تھیں۔ ان حالات میں سعادت حسن منٹو کو اپنی اصل شخصیت کے اظہار کا موقع اپنے علاقے کے گلی کوچوں میں ملتا۔ وہ ابتدا ہی سے تعلیم کی طرف مائل نہیں تھے۔ اسی لیے ان کا تعلیمی کیریئر بھی حوصلہ افزا نہیں تھا۔ میٹرک کے امتحان میں تین مرتبہ فیل ہونے کے بعد انھوں نے 1931ئ میں یہ امتحان پاس کیا۔ ان کی سوچ اور زندگی میں ایک نیا باب اس وقت شروع ہوا جب 1933ئ میں اکیس برس کی عمر میں امرتسر میں ہی ان کی ملاقات عبدالباری علیگ سے ہوئی جو اس وقت کے ایک معروف سکالر اور رائٹر تھے۔ عبدالباری علیگ نے منٹو کی حوصلہ افزائی کرتے ہوئے انہیں اپنے اندر کے ادیب کو پہچاننے اور روسی اور فرانسیسی ادیبوں کو پڑھنے کا مشورہ دیا۔منٹو نے میں ڈھائی سو سے زائد افسانے لکھے ، جن میں بیشتر افسانے ان کے کمال فن کا نمونہ اور شاہکار کا درجہ رکھتے ہیں۔افسانہ کہنے کے جس خوبصورت اسلوب اور حیرت انگیزانداز سے منٹو واقف تھے ، اس ہنر سے منٹو کے کئی ہم عصر اور حریف افسانہ نگار محروم نظر آتے ہیں اور جہاں تک عام قاری کا سوال ہے ، تو وہ منٹو کو ان کے جنسی اور بعض ناقدین ادب کے مطابق فحش افسانوں مثلاً ٴٴبوٴٴ ٴٴدھواںٴٴ ٴٴکالی شلوارٴٴ ٴٴٹھنڈا گوشتٴٴ وغیرہ کی وجہ سے جانتے ہیں ، اور کسی حد تک حقیقت بھی یہی ہے کہ منٹو ان ہی افسانوں کی بنا پر مشہور اور معتوب ہوئے۔لیکن منٹو اپنی شہرت پر کبھی اِترائے اور نہ ہی معتوب ہونے پر گھبرائے، بلکہ دونوں ہی حالات میں نارمل رہتے ہوئے اپنے افسانوں میں اس مخصوص ماحول کو زندہ رکھا ، جس سے وہ خاص طور پرمتاثر ہوئے تھے۔ پیشہ ور داشتائیں، طوائفیں اور ان کے گرد ان کے دلال اور چاہنے والے ، سب کے سب منٹو کے افسانوں میں متحرک نظر آتے ہیں۔ ان کے افسانوں میں شاید ہی کوئی کردار ایسا ہو ،جس میں زندگی کی جھلک موجود نہ ہو۔ منٹو نے شروع میں ترقی پسند نظریات کے حامل افسانے لکھے جس کے بعد ان کے اسلوب اور تخلیق میں مسلسل نکھار آتا گیا اور پھر ان کی ہر تحریر آنے والے وقت کا ادبی معیار بنتی گئی۔ منٹو کے شہرہ آفاق افسانوں میں ٹوبہ ٹیک سنگھ، کھول دو، ٹھنڈا گوشت، دھواں اور کالی شلوار جیسی بہت سی تخلیقات شامل ہیں۔ ان کے افسانوں کے کئی مجموعے، خاکے اور ڈرامے بھی شائع ہو چکے ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *