51927525-copy

حفیظ جالندھری کی شاعری, نثر نگاری اور خوداری اپنی مثال آپ

لاہور: ابو الاثر حفیظ جالندھری. پاکستان سے تعلق رکھنے والے نامور شاعر اور نثرنگار تھے۔آپ 14 جنوری 1900 کو پیدا ہوے.قلمی نام ابولاثر تھا. پاکستان کے قومی ترانہ کے خالق کی حیثیت سے شہرتِ دوام پائی۔ ہندوستان کے شہر جالندھر میں 14 جنوری 1900ئ کو پیدا ہوئے۔ آزادی کے وقت 1947ئ میں لاہور آ گئے۔ آپ نے تعلیمی اسناد حاصل نہیں کی، مگر اس کمی کو انہوں نے خود پڑھ کر پوری کیا۔ انھیں نامور فارسی شاعر مولانا غلام قادر بلگرامی کی اصلاح حاصل رہی۔ آپ نے محنت اور ریاضت سے نامور شعرا کی فہرست میں جگہ بنا لی۔21 دسمبر 1982 کو آپ وفات پاگئے اس وقت آپ کی عمر 82 سال تھی.ابو الاثرحفیظ جالندھری پاکستان کے قومی شاعر تھے۔ مگر ان کی مقبولیت بھارت میں کم نہیں تھی۔ تقسیم ملک سے قبل ہی وہ اپنی ادبی حیثیت منوا چکے تھے۔ ان کی دوسری شناخت ٴٴشاہنامہ اسلامٴٴ کے تناظر میں اسلامی تاریخ، تہذیب اور ثقافت کا شعری حوالہ ہے۔ انہوں نے ثقافتی اکتساب کے حوالوں سے اعلیٰ اور ارفعیٰ اور افضل ہستیوں کی ایسی شعری پیکر تراشی کی کہ ان کی تخلیق بر صغیر ہندو پاک میں اپنی نوعیت کی واحد تخلیق قرار پائی۔حفیظ جالندھری کی شاعری کی تیسری خوبی اس کی غنائیت ہے۔ وہ خود بھی مترنم تھے اس لیے انہوں نے ایسی لفظیات کا انتخاب کیا جو غنائیت کے پیکر پر پورے اترتے ہیں۔ غنائیت کا سبب ان کی گیت نگاری بھی ہے۔ انہوں نے دوسری جنگ عظیم کے زمانے میں فوجی گیت لکھے تھے اور گیت کو بھی انہوں نے نئے پیکر عطا کیے۔ شاید اسی لیے آج تک حفیظ جالندھری کی شناخت ٴٴ ابھی تو میں جوان ہوںٴٴ کے حوالے سے کی جاتی ہے۔ بلا شبہ یہ ایک پر اثر گیت ہے کیوں کہ اس میں جو الفاظ استعمال کیے گئے ہیں وہ اپنی جگہ پر نگینے کی طرح جڑے ہوئے ہیں اور سامع کے دل پر گہرا اثر چھوڑتے ہیں۔لیکن حقیقت یہ بھی ہے کہ حفیظ کی غزلوں کا سرمایہ کافی ہے اور حفیظ خود کو غزل گو کہلوانا پسند کرتے تھے۔ انہوں نے غزل میں بہت سے نئے تجربات کیے۔ سب سے بڑی بات یہ ہے کہ سلیس زبان کا استعمال کیااور گرد و پیش کے واقعات کو اپنی غزلوں کا موضوع بنایا۔ ایک طرح سے انہوں نے غزل کو فطری پوشاک عطا کی۔ ان کے یہاں روایت سے بغاوت ملتی ہے۔حفیظ جالندھری بہر حال اردو کے شعری ادب میں قابل ذکر حیثیت کے مالک ہیں اور انہوں نے اردو شاعری کو جو کچھ دیا ہے اس کا اردو ادب میں نمایاں مقام ہے۔ انہوں نے اپنی تخلیقات میں چار جلدوں میں شاہنامہ اسلام، نغمہ زاد ٴ سوز و ساز، تلخابہ شریں اور چراغ سحر چھوڑے۔حفیظ صاحب کسی کے رعب اور دبدبے میں ہرگز نہیں آتے تھے اور نہ ہی کسی پر چوٹ کرنے کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے دیتے۔ سب بڑے بڑوں کو ڈانٹ پلا دیتے۔ سیدضمیر جعفری اور عزیز ملک نے جو حفیظ کے بہت قریب رہے ہیں، مجھے کئی واقعات سنائے ہیں جن سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ کسی کو اپنے سے بڑا نہ سمجھتے۔ کسی کی قصیدہ گوئی اور خوشامد کرنا تو درکنار وہ کسی سے جھک کر ملنا بھی کسرِشان سمجھتے۔چاہے کوئی بہت بڑا سرکاری افسر ہو یا کوئی وزیر، وہ اپنا مقام و مرتبہ اس سے اوپر ہی سمجھتے اور اسی کے مطابق گفتگو کرتے۔ البتہ چھوٹوں سے ان کا رویہ محبت اور شفقت والا ہوتا اور عام آدمی سے برابر کی سطح پر بات کرتے۔کس میں جرٓت تھی جو وزرا سے کرسیاں خالی کرواتا جب خواجہ ناظم الدین گورنر جنرل تھے تو حیدرآباد میں کْل پاکستان مشاعرے کا اہتمام کیا گیا۔ مشاعرے کی صدارت خواجہ ناظم الدین صاحب نے کرنی تھی۔ سیدضمیرجعفری راوی ہیں کہ مشاعرہ گاہ میں جانے سے قبل سبھی شاعر دوسرے ہال میں عشائیے کی دعوت میں جمع تھے۔ کھانے کے بعد سبز قہوے کا دور چلا۔ اتنے میں اعلان ہوا کہ گورنر جنرل تشریف لایا چاہتے ہیں۔ شعرائے کرام سے درخواست کی گئی کہ مشاعرہ گاہ میں تشریف لے جا کر اپنی نشستیں سنبھال لیں۔جب شعرائ جناب حفیظ جالندھری کی قیادت میں مشاعرہ ہال میں داخل ہوئے تو کیا دیکھتے ہیں کہ جو کرسیاں سٹیج پر شعرائے کرام کے لیے رکھی گئی ہیں، ان پر وزرائے کرام اور دوسرے سربرآوردہ معززین براجمان ہیں۔ صدر مشاعرہ کی کرسی کے علاوہ اور کوئی خالی نہیں۔شعرائ تو سٹیج کے قریب پہنچ کر رْک گئے مگر حفیظ سیدھے اوپر جا پہنچے اور شعرائ کی نشستوں پر قابض وزرائے کرام سے بآوازِبلند فرمایا ٴٴجنابٝ یہ کرسیاں خالی کرکے سٹیج سے نیچے تشریف لے جائیں۔ٴٴ وہ پہلے تو ایک دوسرے کی طرف دیکھنے لگے۔ جب حفیظ صاحب نے اپنا مطالبہ دہرایا اور اس اثنا میں کچھ اور شاعر بھی حفیظ صاحب کی اقتدا میں سٹیج پر جا پہنچے تو ان حضرات کو اٹھتے ہی بنی۔ نیچے ہال میں بھی کوئی نشست خالی نہ تھی۔خیر منتظمین نے دوڑ بھاگ کرکے پہلی قطار کے آگے ایک اور صف لگائی۔ ابھی یہ اکھاڑ پچھاڑ جاری ہی تھی کہ صدر مشاعرہ جناب خواجہ ناظم الدین تشریف لے آئے۔ اس اثنا میں شعرائے کرام اپنی نشستیں سنبھال چکے تھے۔ سیدضمیرجعفری بتاتے ہیں کہ حفیظ صاحب نے سٹیج پر وزرائے کرام کو عالی جاہ یا سر جیسے الفاظ سے خطاب نہیں کیا اور نہ انھیں ہنستے مسکراتے ہوئے جھک کر سلام کہا۔ اگر وہ کرسیاں خالی نہ کرواتے تو منتظمین مشاعرہ میں سے کسی کی اتنی جرات نہ تھی جو وزیروں کو جا کر کہتا کہ کرسیاں خالی کردیں اور پھر اس پر فوری عمل بھی کرواتا۔منتظمین میں ہمت اور سلیقہ ہوتا تو وہ پہلے ہی کسی کو سٹیج پر نہ بیٹھنے دیتے اور وزرائ کے لیے نیچے پہلی صف میں نشستیں خالی رکھتے۔ کس حکیم نے مشاعرے میں آنے کا کہا تھا؟ ستمبر ۱۹۶۸ئ میں چٹاگانگ میں ایک کل پاکستان مشاعرے کا اہتمام ہوا۔ میں ان دنوں چٹاگانگ میں ہی تعینات تھا اور اس مشاعرے میں موجود تھا۔ سامعین کی پہلی صف میں ایک بڑا افسر اپنی بیگم کے ساتھ بیٹھا تھا۔ معلوم نہیں کیا مسئلہ تھا، وہ میاں بیوی آپس میں لڑجھگڑ رہے تھے۔ان کی کھسر پْھسر مشاعرے میں خلل ڈال رہی تھی مگر وہاں کوئی ایسا نہ تھا جو ا نھیں یہ کہتا کہ براہِ کرم خاموشی اختیار کریں اور لوگوں کو مشاعرہ سننے دیں۔ بطور آخری شاعر حفیظ صاحب مائیک پر تشریف لائے اور اپنے مخصوص ترنم میں مشہور غزل کا مطلع سنایاٜ
ردوس کی طہور بھی آخر شراب ہے
مجھ کو نہ لے چلو مری نیت خراب ہے
حفیظ صاحب ابھی مطلع پڑھ ہی رہے تھے کہ ان میاں بیوی کی کھسر پْھسر پھر گونجی۔ حفیظ صاحب رک گئے اور ان صاحب کی طرف اشارہ کرکے کہا ٴٴجب مشاعرے میں بیٹھنے کی تمیز نہیں تو کیا تمھیں کسی حکیم نے کہا تھا کہ مشاعرے میں آئو۔ٴٴ یہ سْن کر اس کی بیگم تو فوراً اٹھ کر چلی گئی۔ چند لمحوں بعد وہ صاحب بھی اْٹھے اور سرجھکائے وہاں سے چلے گئے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *