ibn_e_insha

ابن انشا کی39 ویں برسی

لاہور: شاعر، مزاح نگا ر ابن انشا کا اصلی نام شیر محمد خان تھا۔ جالندھر کے ایک نواحی گاؤں میں پیدا ہوئے انتقال گیارہ جنورری 1978 کو لندن میں ہوا۔انہوں نے 1946ئ میں پنجاب یونیورسٹی سے بی اے اور 1953ئ میں کراچی یونیورسٹی سے ایم اے کیا۔ 1962ئ میں نشنل بک کونسل کے ڈائریکٹر مقرر ہوئے۔ ٹوکیو بک ڈوپلمنٹ پروگریم کے وائس چیرمین اور ایشین کو پبلی کیشن پروگریم ٹوکیو کی مرکزی مجلس ادارت کے رکن تھے۔ روزنامہ جنگ کراچی ، اور روزنامہ امروز لاہورکے ہفت روزہ ایڈیشنوں اور ہفت روزہ اخبار جہاں میں ہلکےفکاہیہ کالم لکھتے تھے۔ دو شعری مجموعے، چاند نگر 1900ئ اور اس بستی کے کوچے میں 1976ئ شائع ہوچکے ہیں۔ 1960ئ میں چینی نظموں کا منظوم اردو ترجمہ ٟچینی نظمیںٞ شائع ہوا۔ یونیسکو کےمشیر کی حیثیت سے متعدد یورپی و ایشیائی ممالک کا دورہ کیا تھا۔ جن کا احوال اپنے سفر ناموں چلتے ہو تو چین کع چلئیے ، آوارہ گرد کی ڈائری ، دنیا گول ہے ، اور ابن بطوطہ کے تعاقب میں اپنے مخصوص طنزیہ و فکاہیہ انداز میں تحریر کیا۔ اس کے علاوہ اردو کی آخری کتاب ، اور خمار گندم ان کے فکاہیہ کالموں کے مجموعے ہیں۔ Ñ۹۵۶ئ ۔ ابن انشائ نے متعدد غیر ملکی زبانوں میں ناولوں ، کہانیوں ، سفر ناموں اور نظموں کے اردو زبان میں ترجمے کئے۔ بچوں کے لئے خوبصورت نظمیں لکھیں۔ ان کی نظموں کا مجموعہ ٴٴبلو کا بستہ ٴٴ۱۹۵۸ئ میں شائع ہوا۔ ابن انشائ کے سفر نامے دنیا گول ہے، آوارہ گرد کی ڈائری ، ابن بطوطہ کے تعاقب میں ، چلتے ہو تو چین کو چلئے اور نگری نگری پھر ا مسافر شائع ہو چکے ہیں۔ طنز و مزاح پر مشتمل ان کی کتابیں ٴٴخمار گندم ٴٴ اور ٴٴاردو کی آخری کتابٴٴ بہت مقبول ہو ئیں۔ اس کے علاوہ ان کے شعری مجموعے ٴٴچاند نگرٴٴ اور ٴٴ اس بستی کے کوچے میں ٴٴشائع ہو چکے ہیں۔ ایک روسی ناول کا اردو ترجمہ بھی ٴٴسحر ہونے تکٴٴ کے نام سے کر چکے ہیں۔ابن انشا پا پوش نگر کے قبر ستان میں مدفون ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *