1390485_590578644349358_494817835_n-1-copy

شاعری کے بادشاہ غالب مزاح میں بھی بلند درجے پر فائز

لاہور: اردو اور فارسی کے عظیم اور سب سے بڑے شاعر اسداللہ غالب 27 دسمبر1799ئ کو آگرہ میں پیدا ہوئے، بادشاہ وقت سے نجم الدولہ دبیرالملک نظام جنگ کا خطاب ملا، تخلص غالب رکھا۔غالب کی شاعری نا صرف ان کی ذاتی زندگی کا عکس ہے بلکہ ان کے عہد، سماج اور اردگرد کے ماحول کی بھی آئینہ دار ہے،شاعری ہو یا نثر، انشاپردازی یا خطوط نویسی، غالب نے ہر شے میں منفرد اور رنگین جدتیں پیدا کیں۔غالب کو مشکل سے مشکل موضوعات کو نہایت سادگی سے بیان کرنے کا ملکہ حاصل تھا. ۔ غالب کی مزاح نگاری آج ادب کا درجہ اختیار کر چکی ہے . ۔غالب کے گھر میں جو ا کھیلا جا رہا تھا۔پولیس آئی غالب کو پکڑ کر لے گئی۔غالب کے مداح ایک دوست میاں کالے تھے۔انھوں نے غالب کو قید سے آزاد کروایا اور اپنے گھر لے گئے۔وہاں ایک اور مداحِ غالب آئے اور قید سے آزاد ہونے پر مبارک باد دی۔غالب نے فوراًکہا ٴٴ کون بھڑوا قید سے چھوٹا ہے پہلے گورے کی قید میں تھا اب کالے کی قید میں ہوں۔۔اہلِ دہلی اور اہلِ لکھنؤکی زبان دانی کے اختلافات مشہور ہیں۔غالب کے زمانے کا ایک واقعہ ملاحظہ کیجیے۔اہلِ دہلی جس موقع پر ٴٴاپنے تیئ ں ٴٴ کا استعمال کرتے ہیں اْس موقع پر اہلِ لکھنؤ ٴٴآپ کو ٴٴ استعمال کرتے ہیں۔دونوں اسکول کی رقابت اور اختلافاتِ بیان مشہور ہیں۔غالب ایک مرتبہ لکھنؤ تشریف لے گئ تو کسی صاحب نے ان دونوں لفظوں کو غالب کی جناب میں پیش کیا۔ان کی رائے دریافت کی۔غالب نے کہا اپنے تیئ ں کے مقابلے میں آپ کو ضرور فصیح ہے مگر اس میں دِقت یہ ہے کہ مثلاًآپ میری نسبت یہ فرمائیں کہ میں آپ کو فرشتہ صفت جانتا ہوں اور میں اس کے جواب میں اپنی نسبت یہ عرض کروں کہ ٴٴمیں تو آپ کو کْتے سے برتر سمجھتا ہوں تو سخت مشکل واقع ہوگی۔میں تو اپنی نسبت کہوں گا اور آپ ممکن ہے کہ اپنی نسبت سمجھ جائیں گے ٴٴ۔۔نواب یوسف علی خان والئ رام پور کا انتقال ہو جانے پر غالب تعزیت کے لئے رام پور تشریف لے گئے تھے۔جب نواب کلب علی خان فرزند یوسف علی خان مرحوم لیفٹننٹ گورنر سے ملنے بریلی آئے ان کے ہمراہ غالب بھی تھے جو تعزیت کے بعد دہلی جا رہے تھے۔نواب صاحب نے چلتے چلتے کہاٴٴخدا کے سپردٴٴغالب نے کہا ٴٴ حضورٝ خدا نے مجھے آپ کے سپرد کیا ہے اور آپ پھر الٹا مجھکو خدا کے سپرد کرتے ہیںٴٴ۔۔غالب کے جہاں سینکڑوں مداح تھے وہیں چند مخالفین بھی تھے۔ایک مولوی امین الدین ان میں سے تھے۔غالب کی کتاب ٴٴقاطع برہاںٴٴ کے جواب میں ایک رسالہٴٴقاطع قاطعٴٴ کے نام سے جاری کیاجو فحش الفاظ سے لبریز تھا۔کسی نے کہا حضور غالب آپ نے اس کا کچھ جواب نہیں دیا۔غالب نے کہا ٴٴاگر کوئی گدھا تمھیں لات مارے تو تم بھی اْس گدھے کو لات مارو گےٴٴ۔ہندوستان بھر سے مرزا غالب کے سینکڑوں شاگردوں کے اصلاحِ کلام کے خطوط آتے رہتے تھے۔آخری عمر میں اشعار کی اصلاح دینے سے غالب گھبراتے تھے لیکن پھر بھی کسی کا قصیدہ یا غزل بغیر اصلاح کئے واپس نہ کرتے تھے۔ایک صاحب کو لکھا کہ شاہ بو علی قلندر کو بہ سبب کبر سنی خدا نے فرض نماز اور پیغمبر نے سنت معاف کر دی تھی۔میں متوقع ہوں کہ میرے دوست بھی خدمتِ اصلاحِ اشعار سے مجھے معاف کریںٴٴ۔۔ماہِ رمضان ختم ہونے کے بعد عید ملنے مرزا غالب بہادر شاہ ظفر کے دربار میں حاضر ہوئے۔بادشاہ نے پوچھا ٴٴغالب ٝ تم نے کتنے روزے رکھےٴٴ؟ غالب نے نہایت سادگی سے کہا ٴٴپیرومرشدٝ ایک نہیں رکھاٴٴ۔ایک دفعہ غالب مکان بدلنا چاہتے تھے۔ایک مکان آپ خود دیکھ کر آئے۔اس کا دیوان خانہ پسند آگیا مگر محل سرا نہ دیکھ سکے۔گھر پر آکر اس کو دیکھنے کے لئے بیوی کو بھیجا۔وہ دیکھ کر آئیں تو غالب نے بیوی سے پوچھا ٴٴ مکان پسند آیا یا نہیں ٴٴ؟ انھوں نے کہا کہ اس میں بلئیات ہیں مرزا غالب نے کہا ٴٴ کیا دنیا میں آپ سے بڑھ کر بھی کوئی بلا ہےٴٴ. غالب کو پھلوں میں انگور اور آم پسند تھے õ ایک دفعہ آم کے موسم میں نواب علائ الدین احمد خاں نے انہیں لوہارو آنے کی دعوت دی تو انہوں نے مذاق میں لکھا کہ میں اندھا ہوں کہ اس موسم میں دہلی چھوڑ کر لوہارو جاؤںõ اْس ویرانے میں نہ آم نہ انگور نہ کوئی اور لْطف نا صاحب ٝ آج کل نہیں آ سکتا۔ ،1802میںئ مرزا اسداللہ خاں غالب کے والدِ محترم مرزا عبداللہ بیگ خاں راج گڑھ کی جنگ میں گولی لگنے سے اللہ کو پیارے ہوگئے1810ئ ،اگست 9 کو نواب احمد بخش خاں کے چھوٹے بھائی الٰہی بخش خاں معروف کی 11 سالہ صاحبزادی امراؤ بیگم سے مرزا اسداللہ خاں غالب کی شادی ہوئی .جب غالب کی عمر صرف 13 سال تھی۔ 1813ئ میں مرزا اسداللہ خاں غالب آگرہ سے دہلی منتقل ہوگئے۔ َ1868کے آخر میں یا 1869کے آغاز میں مرزا غالب بیمار ہو گئے1869ئ15، فروری 15 کا دن … اْس کے بعد … انہیں پھر ہوش نصیب نہ ہوا õ آخرکار…مرزا اسداللہ خاں غالب … زندگی کی بازی دہلی میں ہار گئے . 1869ئ ، مارچ ، 6 ، اْردوئے معلٰی ٟرقعاتٞ شائع ہوئی۔ سات بچے بچیوں کی ولادت ہوئی لیکن کوئی بھی 15 ماہ سے زیادہ عمر نہ پا سکا۔ 1870ئ ،فروری 4 غموں اور سر پر چڑھے قرضوں سے نڈھال ، غالب کی پہلی برسی کی تیاریوں میں مصروف ،ان کی بیگم بھی اللہ کو پیاری ہو گئیں۔غالب اپنے کھانے کا خصوصی طور پر خیال رکھتے تھے نہار منہ باداموں کی ٹھڈائی سے دن کا آغاز کرتے تھے ۔دوپہر اور رات کے کھانے میں گوشت کا ناغہ نہیں ہوتا تھا گوشت میں چنے کی دال بہت ہی پسند تھی جس کو شادی کے بعد چو نکہ بیگم کو پسند نہیں تھی اس لئے اْس کو چھوڑنا پڑا۔بکرے اور دمبے کا گوشت ،پرندوں میں مْرغ ،کبوتر اور بٹیر بہت پسند تھے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *