news-1450680650-2950_large-copy

لاہور:۔بھارت کی طرف سے حفیظ جالندھری کو اس اعزاز سے محروم کرنے کی کوشش بھی کی جاتی رہی ہے اور پاکستان کا ٴٴقومی ترانہٴٴ لکھنے کا اعزاز بھارت کے ممتاز شاعر جگن ناتھ آزاد کو دینے کی سعی کی گئی بھارتی میڈیا اس سلسلے میں قائداعظم کے دوست کا حوالہ بھی دیتا رہا کہ انہیںں قائد اعظم نے کہا تھا کہ کسی ہندو شاعر سے پاکستان کا ترانہ لکھوایا جائے۔ اس ضمن میں بھارتی میڈیا نے پاکستان سے دشمنی کا منفی کردار اپنی پوری بدفطرتی سے ادا کیا ہے لیکن بھارتی پروپیگنڈہ اپنی موت آپ مر چکا ہے ۔ کیونکہ شاعر جگن ناتھ نے کبھی بھی بھارتی میڈیا کی تصدیق نہیں کی ۔ وہ بحی حفیظ جالندھری کے فن کے معترف تھے ۔ نامور شاعر حفیظ جالندھری نے قومی ترانہ لکھ کر تاریخ میں خود کو ہمیشہ کے لئے امر کرلیا۔انہوں نے الفاظ کے ایسے ذخیرے دریافت کئے کہ آج بھی ان کی نظیر نہیں ملتی ۔ جو سنتا ہے وہ قومی ترانے کاہی ہو کر رہ جاتا ہے ۔حفیظ جالندھری نے قومی ترانے کی شعر بندی میں قریباً چھ ماہ کا عرصہ صرف کیا، اس کی ہیئت ٴٴمخمسٴٴ قائم کی اور اس کے ایک ایک لفظ میں پاکستانیت سمونے کی کوشش کی۔ پورا قومی ترانہ بجنے میں ایک منٹ اور بیس سیکنڈلگتے ہیں، سننے والے احتراماً کھڑے ہو جاتے ہیں اور پاکستان کے قیام و ثبات کے لیے دعا کرتے ہیں ۔ قومی ترانہ کمیٹی کو اس پانچ سال کے عرصے میں مشرقی اور مغربی پاکستان کے 723 ممتاز شاعروں نے ترانے بھیجے لیکن ترانہ کمیٹی نے حکیم احمد شجاع، حفیظ جالندھری اور سید ذوالفقار علی بخاری کے ترانوں کو ٴٴشارٹ لسٹٴٴ کیا۔ یہ ترانے 4 اگست 1954 ئ کو پاکستان کی مرکزی کابینہ کے سامنے پیش کیے گئے۔ کابینہ نے حفیظ جالندھری کے لکھے ہوئے ترانے کو ٴٴقومی ترانےٴٴ کے طور پر منظور کر لیا اور یہ پہلی مرتبہ 31 اگست 1954 کو ریڈیو پاکستان سے نشر ہوا۔ قیامِ پاکستان کے بعد 7 برس تک پاکستان کا کوئی قومی ترانہ نہ تھا۔ بس ترانے تھے جو مختلف سرکاری تقریبات پر گائے جاتے تھے۔ عقیل عباس جعفری اپنی کتاب ٴٴپاکستان کا قومی ترانہٜ کیا ہے حقیقت کیا ہے فسانہ؟ٴٴ میں لکھتے ہیں کہٴ4 اگست 1954 کو کابینہ کا ایک اور اجلاس ہوا جس میں حفیظ جالندھری کے لکھے گئے ترانے کو بغیر کسی ردو بدل کے منظور کرنے کا اعلان کر دیا گیا۔ اس اجلاس میں کابینہ نے یہ فیصلہ بھی دیا کہ اس ترانے کی موجودگی میں اردو اور بنگالی کے دو قومی نغمات کی کوئی ضرورت باقی نہیں رہی۔ابوالاثر حفیظ جالندھری 14جنوری 1900 کو بھارت کے علاقہ جالندھر میں پیدا ہوئے۔ آزادی کے بعد انہوں نے لاہور کا رخ کیاحفیظ جالندھر ی معروف شاعر اور نثر نگار تھے۔ ان کی شاعری مذہبی ،حب الوطنی اور لوک گیتوں پر مشتمل تھی۔ انہوں نے پاکستان کا قومی ترانہ تخلیق کر کے شہرت حاصل کی۔حفیظ جالندھر ی نے اگرچہ کسی تعلیمی ادارے سے اسناد حاصل نہیں کیں۔انہوں نے صرف رسمی تعلیم حاصل کی لیکن تعلیم کی اس کمی کو انہوں نے بھرپور مطالعہ اور ریاضت سے پورا کیا اور اپنی تعلیمی استعداد بڑھائی۔انہوں نے اپنی محنت اور لگن سے نامور شعرائ میں جگہ بنا لی اس سلسلے میں انہیں اعلیٰ تعلیم یافتہ فارسی کے عظیم شاعر مولاناغلام قادر بلگرامی کی سرپرستی حاصل رہی ہے۔حفیظ جالندھری کو تمغہ حسن کارکردگی اور ہلال امتیاز سے نوازا جا چکا ہے۔ابوالاثر حفیظ جالندھری 21 دسمبر 1982ئ کو 82برس کی عمر میں انتقال کر گئے تھے۔۔۔ حکومتِ پاکستان حفیظ جالندھری کی اس خواہش پر ایک عرصے تک غور کرتی رہی کہ انہیں ان کی خواہش کے مطابق علامہ اقبال کے پہلو میں دفنایا جائے یا کہیں اور۔ ابتدائ میں انہیں ماڈل ٹاؤن کے قبرستان میں امانتاً دفن کیا گیا۔ بعد ازاں مینارِ پاکستان کے باغ میں ان کا مقبرہ بنا کر انہیں وہاں سپر د خاک کیا گیا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *